مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روس کے وزیر توانائی نے کہا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایران اور روس کے درمیان جامع اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے تبادلے ایک غیرمعمولی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ تعاون مشترکہ کمیشنز، عوامی تبادلے اور سرکاری دوروں کے تسلسل کی صورت میں جاری ہے۔
روسی وزیر توانائی سرگئی تسویلیوف نے تہران کا دورہ کیا اور ایران و روس کے درمیان انیسویں تجارتی و اقتصادی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر فریقین نے باہمی تعاون کی چار یادداشتوں پر دستخط کیے۔ اس سے قبل، وزیر توانائی نے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی سے ملاقات کی اور باہمی تعلقات، اقتصادی اور تجارتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
تسویلیوف نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان گیس کی ترسیل اور بجلی کے نظام کو مربوط کرنے کا منصوبہ زیر بحث ہے، جس میں آذربائیجان کے راستے منصوبہ شامل ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قیام پر بھی کام کر رہے ہیں، جہاں ماہرین ایرانی تربیت حاصل کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں منصوبہ خود مختار طور پر چلایا جاسکے۔ اس کے علاوہ دونوں ملک توانائی کے پرامن جوہری شعبے میں نئے مواقع کی نشاندہی کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔
وزیر توانائی نے کہا کہ نہ صرف ایران اور روس بلکہ دنیا کے دیگر کئی ممالک بھی ڈالر کے متبادل مالیاتی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور یہ عالمی رجحان مستقبل میں مزید وسعت پائے گا۔ خصوصی طور پر ایران اور روس کے لیے، موجودہ غیر معمولی پابندیوں کے پیش نظر، ڈالر پر انحصار کم ہونا ایک ضروری قدم ہے۔
آپ کا تبصرہ